وزیراعظم کا بجلی صارفین کو بڑا ریلیف، گھریلو صارفین کیلئے قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کے لئے 7 روپے 69 پیسےفی یونٹ کمی
وزیراعظم کا بجلی صارفین کو بڑا ریلیف، گھریلو صارفین کیلئے قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کے لئے 7 روپے 69 پیسےفی یونٹ کمی کا اعلان ، بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، شہباز شریف
– Advertisement –
اسلام آباد(پی ایم این/ویب ڈیسک )۔3اپریل2025 :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کے لئے 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتےہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی، آئندہ 5 سالوں میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائےگا، بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی ، سالہا سال سے بند پڑے زنگ آلود "جنکوز "کو بیچا جائےگا، ڈسکوز کوپرائیویٹائز یا پروفیشنلائز کیاجائےگا، سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، نجکاری و رائٹ سائزنگ کےبغیر پاکستان ترقی نہیں سکتا۔ جمعرات کو ان خیالات کا اظہار وزیراعظم بجلی کےنرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمان، سرمایہ کار ، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھارہے ہیں ۔ اب منشور میں کیے گئےوعدے کو پورا کرنے کاوقت آگیا ہے،یہ معاشی ترقی واستحکام کے نتیجے میں خوشخبری سنانے کا موقع ہے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ مہنگی بجلی سے عوام متاثرہوئے،ملک کی خاطر عام آدمی کی قربانیوں کامکمل احساس رکھتے ہیں،مہنگی بجلی کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثرہوئیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ تما م شعبوں کی ترقی میں مہنگی بجلی ایک رکاوٹ ہے،ترقیاتی عمل آگے بڑھانے کیلئے بجلی قیمتوں میں کمی ناگزیرہے۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے ٹاسک فورس کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ عیدسے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے بجلی کے شعبے میں فائدہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ءسے لے کر آج تک اس میں 3.5 روپے کی کمی ہوئی، آج گھریلو صارفین کے لئے مزید 7.41 روپے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جون 2024ءمیں صنعتوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58.50 روپے تھی جس میں مشترکہ کاوشوں سے 10.30 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جو 48.19 روپے فی یونٹ تک پہنچی۔ آج اس میں مزید 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2393 ارب روپے (2کھرب 393ارب روپے)ہے، اس گردشی قرضے کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرلیا گیا ہے، آئندہ پانچ سالوں میں گردشی قرضہ بتدریج ختم ہو جائے گا لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہم خود کو تبدیل کریں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر اس گردشی قرضے سے جان نہیں چھوٹے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری پاور پلانٹس (جنکوز ) سالہا سال سے بند پڑے ہیں اور ایک کلو واٹ بجلی وہاں سے پیدا نہیں ہو رہی، لیکن سالانہ اربوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات جاری ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے۔اس کا بوجھ بھی عوام پر پڑتا ہے۔ یہ وہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا۔ اب ان جنکوز کی پہلی لاٹ کو شفاف طریقے سے فروخت کیا گیا ہے جس سے 9 ارب روپے وصول ہوں گے جبکہ بند پڑے زنگ آلود جینکوز پرسالانہ7ارب روپے کا خرچ ہو رہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہ مسائل ہیں جو کسی ایک حکومت کے پیدا کردہ نہیں، یہ 77 سال کا بوجھ ہے جس کے نیچے قوم دبی ہوئی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد اب ہمیں اصلاحات اور سٹرکچرل تبدیلیاں کرنی ہیں۔ سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔اس چوری کاخاتمہ کرنا ہے۔ اوپن مارکیٹ کے ذریعے بجلی کو مزید سستاکرناہے۔ حکومت ڈسکوزمیں بہت بہتری لے کر آئی ہے لیکن وہاں سب ٹھیک نہیں ہے۔ عام صارفین کو ڈسکوز میں تنگ کیاجاتا ہے، ان ڈسکوز کو فوری طورپر پرائیویٹائزیا پروفیشنلائز کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گردشی قرضے کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کر لیا ہے۔آئندہ پانچ سال میں گردشی قرضہ تبدریج ختم ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری پیداواری پلانٹس کے نقصانات پر بھی توجہ دی گئی ۔ زنگ آلود پلانٹس پر سالانہ خرچہ 7 ارب روپے تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کےلئے آئی پی پیز کے ساتھ بھی مذاکرات کئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئی پی پیز کے حوالے سے ماضی میں جو کچھ ہواس پر بات نہیں کریں گے، جب یہ آئی پی پیز آئیں تھی تو یہ ایک مثبت قدم تھا۔ ہم نے آئی پی پیزکے ساتھ مذاکرات کئے۔ انہیں باور کرایا کہ انہوں نے بہت پیسہ کمالیااب قوم کو فائدہ دیں۔
اس کے لئے حکومتی ٹاسک فورس نے بہت محنت کی۔ آئی پی پیزکو قائل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک ایسی ہی کوشش ہوئی تھی جو دھری کی دھری رہ گئی تھی۔ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں آنے والے سالوں میں جو 3 ہزار 696 ارب روپے قوم کو اداکرنے تھی اب وہ ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔ اسی طرح مختلف آئی پی پیز جن کی مدت 3 سے 25 سال اور اوسط مد ت 15 سال تھی انہیں جو اضافی ادائیگیاں ان سالوں میں ہونا تھیں اس کی مدت میں بچت ہو گی ۔
وزیراعظم نے معیشت کی بہتری کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا ذکرکرتےہوئے کہا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کے لئے پر عزم ہیں۔آئی ایم ایف کو قائل کرنا بہت مشکل امر تھا ۔ عید سے پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی کافائدہ ہم نے عوام کو منتقل نہیں کیا بلکہ اسے بجلی کی قیمت میں کمی کے لئے استعمال کیا۔ اس سلسلہ میں ہمیں آئی ایم ایف کو قائل کرنا پڑا ۔ ماضی میں آئی ایم ایف کے اعتماد کو جو ٹھیس پہنچی تھی ، اس کو مد نظررکھتے ہوئے ہم ملک و قوم کی بہتری کے لئے کئےگئے اقدامات کو آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ماضی پرنظرڈالنابھی اہم ہے،حکومت سنبھالی تو کمزورمعیشت اور دیوالیہ ہونے کاخطرہ منڈلارہاتھا،پاکستان کو ڈیفالٹ تک پہنچانے والے خوشی کے شادیانے بجارہے تھے،انتشاری ٹولے کاپختہ یقین تھاکہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہماری محنت رنگ لائی اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹولے نے ملکی مفاد ات کونقصان پہنچانے کیلئے تمام حدیں پار کیں ،معیشت کے استحکام کیلئے کاوشوں کی راہ میں ان عناصر نے بھاری رکاوٹیں کھڑی کیں،ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے اس ٹولے نے ریاست کے ساتھ کھلواڑکیا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی کوششیں کی گئیں لیکن ہم نے پرخطرراستے پر چیلنجز کا محنت سے مقابلہ کیا۔ ایک وقت میں حالت اتنی خراب تھی ایندھن و بنیادی ضروریات کی درآمد کے لئے ایل سی کھولنے کے لئے بھی تگ و دو اور مجھے خود مداخلت کرنا پڑتی تھی تاکہ کہیں ملک میں تیل و بنیادی اشیا کی قلت پیدا نہ ہو جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ الحمداللہ معیشت میں بنیادی استحکام آچکاہے، مائیکرواکنامک اشاریے بہترہوچکے ہیں،اقتصادی استحکام کیلئے آرمی چیف کابھرپورتعاون حاصل رہا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ملک کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے والے مسائل کوحل کرناہے۔مسائل کے حل کےلئے سرجری کرنی ہے،مشکل فیصلوں اورسخت محنت سے اپنی منزل حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔ نئی صبح کا سورج طلوع ہواچاہتاہے۔وزیراعظم نے کہاکہ اس سارے عمل اور دورانیئے میں عام آدمی کی قربانی کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہو گی جس کے ایثار تحمل اور برداشت کی بدولت یہ ممکن ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن )کے قائد میاں محمد نوازشریف کی رہنمائی قدم قدم پر ہمیں میسر رہی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 38 روے فی لیٹر کمی ہوئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے کم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پالیسی ریٹ 12 فیصد پر آ گیا ہے۔ نجکاری اور رائٹ سائزنگ معاشی اصلاحات کی کڑی ہیں۔ سرکاری اداروں کے نقصانات کی وجہ سے 800 ارب روے سالانہ خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔ معاشی اصلاحات اوراداروں کو منافع بخش بنانے کے لئے سب کو مل کر سوچنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لئے اپنے محاصل میں اضافہ ضروری ہے۔
ٹیکس محاصل میں 35فیصد اضافے کاہدف ہے ،پائیدار ترقی کیلئے اپنے محاصل میں اضافہ ضروری ہے،وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں ترقی کی بہت استعداد موجودہے،غیرمتزلزل عزم کے ساتھ ترقی کی منزل حاصل کریں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن)سردار اویس احمدلغاری نے بجلی کے شعبہ میں اصلاحات اور اس ضمن میں وزیراعظم کی شب و روز محنت اور فراہم کی گئی رہنمائی کا بالخصوص ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی اور ضروری رہنمائی فراہم کی ۔
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔توانائی کے شعبے کی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام امور میں شفافیت اور میرٹ پر توجہ مرکوز ہے اور وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں کی جانے والی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ،وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب، وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اعظم کے معاون خصوصی محمد علی، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان ، چیرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال اور نیشنل کوآرڈینیٹر برائے ٹاسک فورس انرجی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال کو اعزازی بھی پیش کیں۔