اقوام متحدہ 4اپریل (پی ایم این) پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ اور اس سے باہر جاری سنگین انسانی بحران سلامتی کونسل کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے جو کہ ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمارا یہ طرز عمل نہ صرف اس ادارے کو کمزور کرتا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور پر قائم بین الاقوامی نظام کو بھی مجروح کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جس بے خوفی سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز سمیت تمام تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس سے فلسطینی عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا سلامتی کونسل کبھی کوئی موثر اقدام کرے گی یا صرف ان کے مصائب پر افسوس کا اظہار ہی کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا، جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ ہم ایسے ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ورنہ یہ ادارہ بے معنی ہو جائے گا۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ مکمل تباہی کی تصویر پیش کر رہا ہے جہاں نہتے شہریوں بشمول بچوں، خواتین، امدادی کارکنوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں، صحافیوں اور ہسپتالوں، سکولوں سمیت تمام شہری انفراسٹرکچر کو اندھا دھند نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، کچھ بھی محفوظ نہیں رہا یہاں تک کہ تاریخی و ثقافتی ورثے بھی۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی توڑنے کے بعد اسرائیل نے مزید 1100 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جس سے 2023 کے اکتوبر سے 2025 کے جنوری تک شہید ہونے والوں کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 17,000 بچے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے مطابق ایک ملین بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ عالمی ادارہ خوراک (WFP) شدید قحط کی وارننگ دے چکا ہے۔انہوں نے کہا، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔
سفیر عاصم افتخار کے مطابق اب تک 400 سے زائد امدادی کارکنان، جن میں 284 UNRWA کے اہلکار شامل ہیں، شہید کیے جا چکے ہیں جو جدید تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا، جب اقوام متحدہ کے اہلکار اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا بچا ہے اس عالمی نظام میں جو ہم نے جنگِ عظیم دوم کی راکھ سے تعمیر کیا تھا؟
سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم کو بھی بے نقاب کیا، جہاں اسرائیل نے 40,000 سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے جو کہ 1967 کے بعد سب سے بڑی جبری نقل مکانی ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری اور موثر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔